کسی کے ساتھ نہ ہونے کے دکھ بھی جھیلے ہیں

منموہن تلخ

کسی کے ساتھ نہ ہونے کے دکھ بھی جھیلے ہیں

منموہن تلخ

MORE BYمنموہن تلخ

    کسی کے ساتھ نہ ہونے کے دکھ بھی جھیلے ہیں

    کسی کے ساتھ مگر اور بھی اکیلے ہیں

    اب اس کے بعد نہ جانے نصیب میں کیا ہے

    نہ ساتھ آؤ ہمارے بہت جھمیلے ہیں

    کہاں ہے یاد ملا کوئی کب تو کب بچھڑا

    ہم اپنے دھیان سے اترے ہوئے سے میلے ہیں

    کہو نہ مجھ سے کہ چلتے ہیں اب ملیں گے پھر

    یہ کھیل وہ ہیں کہ صدیوں سے لوگ کھیلے ہیں

    جو گھر میں جاؤں تو آواز تک نہیں کوئی

    گلی میں آؤں تو ہر سو صدا کے ریلے ہیں

    جو لوگ بھول بھلیاں ہیں تلخؔ اب اپنی

    نہیں وہ صرف اکیلے بہت اکیلے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کسی کے ساتھ نہ ہونے کے دکھ بھی جھیلے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY