کوئی گلاب کبھی اس کا دل دکھایا تھا

خورشید ربانی

کوئی گلاب کبھی اس کا دل دکھایا تھا

خورشید ربانی

MORE BYخورشید ربانی

    کوئی گلاب کبھی اس کا دل دکھایا تھا

    سو ریگزار پہ بھی وحشتوں کا سایہ تھا

    اتر کے شاخ سے اک ایک زرد پتے نے

    نئی رتوں کے لیے راستہ بنایا تھا

    وہ شاخ سایۂ اخلاص کٹ گئی اک روز

    تپش سے جس نے مجھے عمر بھر بچایا تھا

    شجر شجر کو نشانہ بنانے والو تمہیں

    خیال بھی نہ کسی گھونسلے کا آیا تھا

    کسی خیال کسی خواب کے لیے خورشیدؔ

    دیا دریچے میں رکھا تھا دل جلایا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY