کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئے

زین العابدین خاں عارف

کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئے

زین العابدین خاں عارف

MORE BY زین العابدین خاں عارف

    کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئے

    قلزم اشک میں جوں لخت جگر بیٹھ گئے

    ناتواں ہم یوں تری بزم سے نکلے کیونکر

    کسے معلوم ہے ہم آ کے کدھر بیٹھ گئے

    آپ کو خون کے آنسو ہی رلانا ہوگا

    حال دل کہنے کو ہم اپنا اگر بیٹھ گئے

    کس کو اک دم کا بھروسہ ہے کہ مانند حباب

    بحر ہستی میں ادھر آئے ادھر بیٹھ گئے

    دور سمجھا ہے رقیبوں کو یہاں سے عارفؔ

    یار کے پاس جو بے خوف و خطر بیٹھ گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY