مرے بدن میں چھپی آگ کو ہوا دے گا

بشیر فاروقی

مرے بدن میں چھپی آگ کو ہوا دے گا

بشیر فاروقی

MORE BYبشیر فاروقی

    مرے بدن میں چھپی آگ کو ہوا دے گا

    وہ جسم پھول ہے لیکن مجھے جلا دے گا

    تمہارے مہرباں ہاتھوں کو میرے شانے سے

    مجھے گماں بھی نہ تھا وقت یوں ہٹا دے گا

    ہے اور کون مرے گھر میں یہ سوال نہ کر

    مرا جواب ترا رنگ رخ اڑا دے گا

    چلے بھی آؤ کہ یہ ڈوبتا ہوا سورج

    چراغ جلنے سے پہلے مجھے بجھا دے گا

    کھڑے ہوئے ہیں یہاں تو بلند ہمت لوگ

    تھکے ہوؤں کو بھلا کون راستہ دے گا

    دروں کو بند کرو ورنہ آندھیوں کا یہ زور

    تمہارے کچے گھروں کی چھتیں اڑا دے گا

    جہاں سب اپنے ہی دامن کو دیکھتے ہوں بشیرؔ

    اس انجمن میں بھلا کون کس کو کیا دے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY