مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں

احمد کامران

مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں

احمد کامران

MORE BY احمد کامران

    مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں

    ہم سہمے ہوئے لوگ ہیں ہمت سے گریزاں

    اک پل کا توقف بھی گراں بار ہے تجھ پر

    اور ہم کہ تھکے ہارے مسافت سے گریزاں

    اے بھولے ہوئے ہجر کہیں مل تو سہی یار

    اک دوجے سے ہم دونوں ہیں مدت سے گریزاں

    جا تجھ کو کوئی جسم سے آگے نہ پڑھے گا

    اے مجھ سے خفا میری محبت سے گریزاں

    اے زندہ بچے شخص یہ سب لے کے پلٹ جا

    ہم جنگ میں ہیں مال غنیمت سے گریزاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY