نوع بہ نوع ایک امڈتا ہوا طوفان تھا میں

ساحل احمد

نوع بہ نوع ایک امڈتا ہوا طوفان تھا میں

ساحل احمد

MORE BYساحل احمد

    نوع بہ نوع ایک امڈتا ہوا طوفان تھا میں

    بہتے دریا کے لیے اک یہی پہچان تھا میں

    میں کسی نقطۂ بے لفظ کا اظہار نہیں

    ہاں کبھی حرف انا وقت کا عرفان تھا میں

    دیتی تھی ذوق نظر مجھ کو گنہ کی ترغیب

    یوں فرشتہ تو نہ تھا ہاں مگر انسان تھا میں

    ان سے اے دوست مرا یوں کوئی رشتہ تو نہ تھا

    کیوں پھر اس ترک تعلق سے پشیمان تھا میں

    کس تصور کے تحت ربط کی منزل میں رہا

    کس وسیلے کے تأثر کا نگہبان تھا میں

    پھر پس لفظ یہی بات اٹھی تھی کل شب

    بکھرے لفظوں کے لیے باعث ہیجان تھا میں

    اس کہانی میں کوئی ربط و تسلسل بھی نہیں

    کیوں کہ اس زیست کا ساحل یہی عنوان تھا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے