Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

احمد حسین مائل

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

احمد حسین مائل

MORE BYاحمد حسین مائل

    پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

    آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں

    وصل کا لطف مجھے وصل سے پہلے ہی ملا

    جب کہا یار نے گھبرا کے یہ کیا کرتے ہیں

    اس قدر تھا مجھے الفت میں بھروسا ان پر

    کی جفا بھی تو یہ سمجھا کہ وفا کرتے ہیں

    ہے یہی عرض خدا سے کہ فلاں بت مل جائے

    وہی اچھے جو نمازوں میں دعا کرتے ہیں

    لب کسی کے جو ہلے کان ادھر دھیان ادھر

    دل لگا کر وہ مرا ذکر سنا کرتے ہیں

    صبح کو دیکھ کے آئینہ میں بوسے کا نشاں

    مسکراتے ہوئے ہونٹوں میں گلا کرتے ہیں

    کیسے کیسے مجھے بے ساختہ ملتے ہیں خطاب

    غصہ آتا ہے تو کیا کیا وہ کہا کرتے ہیں

    کیا ہوا مجھ کو رقیبوں نے اگر دی تعظیم

    تیری محفل میں تو فتنے ہی اٹھا کرتے ہیں

    کان باتوں کی طرف آنکھ ہے کاموں کی طرف

    ہو کے انجان مرا ذکر سنا کرتے ہیں

    چین پیشانی پہ ہے موج تبسم لب میں

    ایسے ہنس مکھ ہیں کہ غصے میں ہنسا کرتے ہیں

    بس تو چلتا نہیں کچھ کہہ کے انہیں کیوں ہوں ذلیل

    ہم تو اپنا ہی لہو آپ پیا کرتے ہیں

    اس اشارے کے فدا ایسے تجاہل کے نثار

    مار کر آنکھ وہ منہ پھیر لیا کرتے ہیں

    جلسے ہی جلسے ہیں جب سے وہ ہوئے خود مختار

    کوئی اتنا نہیں کہتا کہ یہ کیا کرتے ہیں

    عاشقانہ ہے عقیدہ بھی ہمارا مائلؔ

    لے کے ہم نام بتاں ذکر خدا کرتے ہیں

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے