رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقی

بھارتیندو ہریش چندر

رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقی

بھارتیندو ہریش چندر

MORE BYبھارتیندو ہریش چندر

    رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقی

    رکے نہ ہاتھ ابھی تک ہے دم میں دم باقی

    اٹھا دوئی کا جو پردا ہماری آنکھوں سے

    تو کعبے میں بھی رہا بس وہی صنم باقی

    بلا لو بالیں پہ حسرت نہ دل میں میرے رہے

    ابھی تلک تو ہے تن میں ہمارے دم باقی

    لحد پہ آئیں گے اور پھول بھی اٹھائیں گے

    یہ رنج ہے کہ نہ اس وقت ہوں گے ہم باقی

    یہ چار دن کے تماشے ہیں آہ دنیا کے

    رہا جہاں میں سکندر نہ اور نہ جم باقی

    تم آؤ تار سے مرقد پہ ہم قدم چومیں

    فقط یہی ہے تمنا تری قسم باقی

    رساؔ یہ رنج اٹھایا فراق میں تیرے

    رہے جہاں میں نہ آخر کو آہ ہم باقی

    مأخذ :
    • کتاب : Bhartendu Samagr (Pg. 272)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY