Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شہر کا شہر صلیبوں سے سجا ہے اب کے

اختر لکھنوی

شہر کا شہر صلیبوں سے سجا ہے اب کے

اختر لکھنوی

شہر کا شہر صلیبوں سے سجا ہے اب کے

ان کی آمد کا ہر انداز نیا ہے اب کے

قافلہ قافلہ مقتل کی طرف جائیں گے لوگ

شوخ پہلے سے بہت رنگ حنا ہے اب کے

یہ تو سچ ہے وہ اسی راہ سے گزریں گے مگر

کوئی دیکھے نہ انہیں حکم ہوا ہے اب کے

آؤ جی بھر کے گلے مل لیں رفیقو ہم آج

قتل کی شکل میں انعام وفا ہے اب کے

موسم گل ترے صدقے تری آمد کے نثار

دیکھ مجھ سے مرا سایہ بھی جدا ہے اب کے

ایک قطرہ نہیں دیتی ہے گزر جاتی ہے

جو بھی اٹھتی ہے گھٹا ایسی گھٹا ہے اب کے

دوستو ذکر رخ یار سے غافل نہ رہو

دشت ظلمات میں مہتاب لٹا ہے اب کے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے