تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں

مجروح سلطانپوری

تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں

مجروح سلطانپوری

MORE BYمجروح سلطانپوری

    تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں

    آپ اپنا مقدر بن نہ سکے اتنا تو کوئی مجبور نہیں

    یہ محفل اہل دل ہے یہاں ہم سب مے کش ہم سب ساقی

    تفریق کریں انسانوں میں اس بزم کا یہ دستور نہیں

    جنت بہ نگہ تسنیم بہ لب انداز اس کے اے شیخ نہ پوچھ

    میں جس سے محبت کرتا ہوں انساں ہے خیالی حور نہیں

    وہ کون سی صبحیں ہیں جن میں بیدار نہیں افسوں تیرا

    وہ کون سی کالی راتیں ہیں جو میرے نشے میں چور نہیں

    سنتے ہیں کہ کانٹے سے گل تک ہیں راہ میں لاکھوں ویرانے

    کہتا ہے مگر یہ عزم جنوں صحرا سے گلستاں دور نہیں

    مجروحؔ اٹھی ہے موج صبا آثار لیے طوفانوں کے

    ہر قطرۂ شبنم بن جائے اک جوئے رواں کچھ دور نہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY