تری طلب مجھے حیران کیوں نہیں رکھتی

خالد عبادی

تری طلب مجھے حیران کیوں نہیں رکھتی

خالد عبادی

MORE BYخالد عبادی

    تری طلب مجھے حیران کیوں نہیں رکھتی

    شریک موجۂ امکان کیوں نہیں رکھتی

    میں زخم زخم نہیں ہوں مگر مسیحائی

    مرے بدن میں مری جان کیوں نہیں رکھتی

    میں جھانکنے کے لیے تو نہ کہتا دنیا سے

    یہ ہوشیار گریبان کیوں نہیں رکھتی

    مجالدہ ہی ضروری ہے تو چمن کا نام

    بہار جنگ کا میدان کیوں نہیں رکھتی

    عجب طرح کی مشقت میں ڈال دیتی ہے

    زمین خلق مرا دھیان کیوں نہیں رکھتی

    عزیز تر ہے انہیں خواب تو شکست خواب

    مری مثال پریشان کیوں نہیں رکھتی

    مأخذ :
    • کتاب : khush ahjaar (Pg. 25)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY