اٹھئے کہ پھر یہ موقع ہاتھوں سے جا رہے گا

احمد محفوظ

اٹھئے کہ پھر یہ موقع ہاتھوں سے جا رہے گا

احمد محفوظ

MORE BYاحمد محفوظ

    اٹھئے کہ پھر یہ موقع ہاتھوں سے جا رہے گا

    یہ کارواں ہے آخر کب تک رکا رہے گا

    زخموں کو اشک خوں سے سیراب کر رہا ہوں

    اب اور بھی تمہارا چہرہ کھلا رہے گا

    بند قبا کا کھلنا مشکل بہت ہے لیکن

    لیکن کھلا تو پھر یہ عقدہ کھلا رہے گا

    سرگرمیٔ ہوا کو دیکھا ہے پاس دل کے

    اس آگ سے یہ جنگل کب تک بچا رہے گا

    کھلتی نہیں ہے یا رب کیوں نیند رفتگاں کی

    کیا حشر تک یہ عالم سویا پڑا رہے گا

    یکسر ہمارے بازو شل ہو گئے ہیں یا رب

    آخر دراز کب تک دست دعا رہے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY