زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا

اعتبار ساجد

زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا

    کیا کیا ہم نے کشٹ کمائے کہاں کہاں نروان لیا

    نقش دیے تری آشاؤں کو عکس دیے ترے سپنوں کو

    لیکن دیکھ ہماری حالت وقت نے کیا تاوان لیا

    اشکوں میں ہم گوندھ چکے تھے اس کے لمس کی خوشبو کو

    موم کے پھول بنانے بیٹھے لیکن دھوپ نے آن لیا

    برسوں بعد ہمیں دیکھا تو پہروں اس نے بات نہ کی

    کچھ تو گرد سفر سے بھانپا کچھ آنکھوں سے جان لیا

    آنکھ پہ ہات دھرے پھرتے تھے لیکن شہر کے لوگوں نے

    اس کی باتیں چھیڑ کے ہم کو لہجے سے پہچان لیا

    سورج سورج کھیل رہے تھے ساجدؔ ہم کل اس کے ساتھ

    اک اک قوس قزح سے گزرے اک اک بادل چھان لیا

    مآخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 09.02.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY