زندگی خاک میں بھی تھی ترے دیوانے سے

میلہ رام وفاؔ

زندگی خاک میں بھی تھی ترے دیوانے سے

میلہ رام وفاؔ

MORE BYمیلہ رام وفاؔ

    زندگی خاک میں بھی تھی ترے دیوانے سے

    اب نہ اٹھے گا بگولا کوئی ویرانے سے

    اس قدر ہو گئی کثرت ترے دیوانوں کی

    قیس گھبرا کے چلا شہر کو ویرانے سے

    جل مرا آگ محبت کی اسے کہتے ہیں

    جلنا دیکھا نہ گیا شمع کا پروانے سے

    کس کی بیگانہ وشی سے یہ تحیر آیا

    کہ اب اپنے بھی نظر آتے ہیں بیگانے سے

    شیخ صاحب بھی ہوئے معتقد پیر مغاں

    آج یہ تازہ خبر آئی ہے مے خانے سے

    اتنی توہین نہ کر میری بلا نوشی کی

    ساقیا مجھ کو نہ دے ماپ کے پیمانے سے

    اے وفاؔ اپنے بھی جب آنکھ چرا لیتے ہیں

    بے رخی کا ہو گلا کیا کسی بیگانے سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY