Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

کتاب: تعارف

’’جولیس سیزر‘‘ ڈرامے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ شیکسپیر کے پیچیدہ ترین ڈراموں سے ایک ہے کیونکہ اس کو ایک سوالیہ ڈرامہ بتایا گیا ہے ۔ جس میں صور تحال کے مختلف پہلوؤں کی چھان بین تو ضرور ہے لیکن کسی خاص نظریے کی تائید نہیں ملتی بلکہ اس کا فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔اس ڈرامہ میں چار خصوصی کردار ہیں۔ سیزر ، بروٹس، کیسیس اور انٹنی ۔ ان میں سے سیزر اور بروٹس کو مرکزیت حاصل ہے ۔ ناقدین و قارئین دونوں کو اپنے اپنے اعتبا ر سے ڈرا مہ کا ہیرو مانتے ہیں ۔ جو لوگ سیزر کو اولیت کا درجہ دیتے ہیں ان کے نزدیک ڈرامہ میں ایک عظیم شخص کا حال بیان کیا گیا ہے جو اپنے غرور و تکبر کی وجہ سے نہ صرف اپنے لیے بلکہ تمام روم کے لیے بربادی کا سبب بنتا ہے اور جولوگ بروٹس کو اولیت کا درجہ دیتے ہیں وہ لوگ ڈرامے میں ایک ایسے نیک آدمی کی روداد سمجھتے ہیں جس کی ٹر یجڈی کا محرک اس کا احمق پن اور اس کی سادہ لوحی ہے ۔ یعنی شیکسپیر نے کرداروں کی تصویر کشی میں بہت ہی زیادہ غیر جانب داری سے کام لیا ہے ۔ ڈرامہ کو دلچسپی کے نقطہ نظر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ پہلے حصے میں سیزر کے قتل کو اور دوسرے حصہ میں سازش کرنے والوں کے انجام کو موضوع بنایا گیا ہے۔ پھر بھی دونوں میں مکمل وحدت پائی جاتی ہے اس اعتبار سے یہ ڈرامہ شیکسپیر کی فنی مہارت اور چابک دستی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

شناخت: عظیم انگریزی ڈرامہ نگار، شاعر اور اداکار، جنہیں دنیا کا سب سے بڑا ادیب اور “بارڈ آف ایون” کہا جاتا ہے۔

ولیم شیکسپیئر 23 اپریل 1564ء کو انگلینڈ کے تاریخی شہر Stratford-upon-Avon میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جان شیکسپیئر ایک باوقار شہری اور پیشے کے اعتبار سے دستکار تھے، جبکہ والدہ میری آرڈن ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم غالباً اسی شہر کے گرامر اسکول میں حاصل کی، جہاں انہیں لاطینی زبان اور کلاسیکی ادب سے شغف پیدا ہوا۔

کم عمری ہی میں، تقریباً اٹھارہ برس کی عمر میں، ان کی شادی این ہیتھاوے سے ہوئی، جن سے ان کے تین بچے ہوئے۔ جوانی کے ابتدائی برسوں کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئے، جہاں ان کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ انہوں نے تھیٹر کی دنیا میں بطور اداکار، مصنف اور شریکِ مالک کام کیا اور جلد ہی نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ وہ معروف تھیٹر کمپنی لارڈ چیمبرلینز مین (Lord Chamberlain's Men)  سے وابستہ رہے، جو بعد میں کنگز مین (King's Men) کے نام سے مشہور ہوئی۔ اسی کمپنی کے تحت لندن کے مشہور گلوب تھیٹر (Globe Theatre) میں ان کے ڈرامے پیش کیے جاتے تھے۔

شیکسپیئر کی ادبی خدمات نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہیں۔ انہوں نے تقریباً انتالیس ڈرامے، ایک سو چونتیس سونیٹس اور متعدد نظمیں تخلیق کیں۔ ان کے ڈرامے تقریبا ہر زبان میں ترجمہ ہو چکے ہیں اور آج بھی دنیا بھر کے تھیٹروں میں سب سے زیادہ پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کی تصانیف میں المیہ، طربیہ، تاریخی اور رومانوی تمام اصناف شامل ہیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ہیملٹ (Hamlet)، میکبیتھ (Macbeth) ، او تھیلو (Othello)، کنگ لیئر (King Lear) اور دی ٹیمپیسٹ (The Tempest) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

شیکسپیئر کا اسلوب اپنی گہرائی، نفسیاتی بصیرت اور زبان کی جدت کے باعث منفرد ہے۔ انہوں نے انسانی جذبات، اقتدار، محبت، حسد اور اخلاقی کشمکش کو اس مہارت سے پیش کیا کہ ان کے کردار آج بھی زندہ محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں نے نہ صرف انگریزی زبان کو نئی جہت دی بلکہ عالمی ادب کو بھی گہرے اثرات سے ہمکنار کیا۔

زندگی کے آخری برسوں میں وہ اپنے آبائی شہر اسٹریٹفورڈ واپس آ گئے اور نسبتاً گوشہ نشینی اختیار کر لی۔

ولیم شیکسپیئر کی شخصیت اور فن کو دنیا بھر میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ انہیں انگریزی زبان کا سب سے بڑا ادیب اور عالمی ادب کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں مشہور ادیب بین جانسن نے بجا کہا تھا کہ وہ “اپنے زمانے کے نہیں بلکہ ہر زمانے کے لیے ہیں”۔

وفات: 23 اپریل 1616ء کو اپنے آبائی شہر اسٹریٹفورڈ میں ان کا انتقال ہوا اور انہیں ہولی ٹرینیٹی چرچ (Holy Trinity Church) میں سپرد خاک کیا گیا۔

نوٹ: ولیم شیکسپیئر کی صحیح تاریخِ پیدائش قطعی طور پر معلوم نہیں۔ تاریخی ریکارڈ میں صرف ان کی بپتسمہ (مسیحیت کی ایک بنیادی مذہبی رسم) کی تاریخ درج ہے، جو 26 اپریل 1564ء ہے۔ چونکہ اُس زمانے میں عموماً پیدائش کے چند دن بعد بپتسمہ کیا جاتا تھا، اس لیے محققین نے اندازہ لگایا کہ ان کی پیدائش 23 اپریل 1564ء کے قریب ہوئی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ 23 اپریل کو روایتی طور پر ان کی تاریخِ پیدائش مانا جاتا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی تاریخ کو ان کی وفات بھی ہوئی۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے