Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مصنف : مولانا اشرف علی تھانوی

اشاعت : 001

ناشر : مکتبۃ البشریٰ، کراچی

سن اشاعت : 2011

زبان : اردو

صفحات : 76

معاون : سمن مشرا

الانتباہات المفیدۃ عن الاشتباہات الجدیدۃ
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: دیوبندی حنفی عالم، صوفی، چشتی، مصلحِ امت اور کثیرالتصانیف مصنف

مولانا اشرف علی تھانوی برصغیر کے ممتاز اسلامی عالم، صوفی اور مصلح تھے جنہوں نے دینِ اسلام کی تعلیم، تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ وہ “بیان القرآن” اور “بہشتی زیور” جیسی شہرۂ آفاق کتب کے مصنف تھے اور دیوبندی مکتبِ فکر کے نمایاں ستون شمار ہوتے ہیں۔

آپ 5 ربیع الثانی 1280ھ کو تھانہ بھون (ضلع مظفرنگر، یوپی) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شیخ عبد الحق ایک معزز، دیندار اور صاحبِ ثروت شخصیت تھے، جو فارسی زبان میں مہارت رکھتے تھے۔ گھر کا ماحول دینی اور باوقار تھا، جس نے آپ کی شخصیت کی ابتدائی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

بچپن ہی سے آپ کا رجحان دین کی طرف تھا۔ کم عمری میں قرآن مجید حفظ کیا اور بارہ برس کی عمر میں تہجد کی پابندی اختیار کر لی، جو آپ کی غیر معمولی دینی مزاج کی علامت تھی۔

ابتدائی تعلیم میرٹھ اور تھانہ بھون میں حاصل کی۔ بعد ازاں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور پانچ سال تک وہاں اعلیٰ دینی علوم حاصل کیے۔

آپ کے اساتذہ میں محمد یعقوب نانوتوی، رشید احمد گنگوہی اور دیگر جلیل القدر علماء شامل تھے۔ زمانۂ طالب علمی میں آپ نہایت سنجیدہ طالب علم تھے، زیادہ وقت مطالعہ اور اساتذہ کی صحبت میں گزارتے تھے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد کانپور کے مدرسہ فیضِ عام میں تدریس کا آغاز کیا اور تقریباً چودہ سال تک وہاں خدمت انجام دی۔

1315ھ میں تھانہ بھون واپس آکر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ کو دوبارہ آباد کیا اور مدرسہ اشرفیہ کی بنیاد رکھی۔ یہاں آپ نے تدریس، اصلاحِ نفس اور روحانی تربیت کا ایک وسیع سلسلہ قائم کیا جو آپ کی وفات تک جاری رہا۔

ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ آپ نے باطنی اصلاح پر بھی بھرپور توجہ دی۔ حج کے موقع پر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے بیعت کی اور بعد میں ان سے خلافت بھی حاصل کی۔

آپ نے تصوف کو شریعت کے تابع رکھتے ہوئے تزکیۂ نفس، اصلاحِ باطن اور اعتدال کی تعلیم دی۔ تھانہ بھون میں آپ کی خانقاہ اصلاحِ باطن کا مرکز بن گئی جہاں دور دراز سے لوگ روحانی فیض حاصل کرنے آتے تھے۔

مولانا تھانویؒ کی تصانیف کی تعداد تقریباً 800 تک بتائی جاتی ہے۔ ان کی تحریریں عقائد، فقہ، تصوف اور اصلاحِ معاشرہ کے موضوعات کا جامع احاطہ کرتی ہیں۔

وفات: آپ کا انتقال 16 رجب 1362ھ مطابق 20 جولائی 1943ء کو ہوا۔ نمازِ جنازہ ظفر احمد عثمانی نے پڑھائی اور آپ کو تھانہ بھون کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے