Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: بنگالی ادب کے مقبولِ عام ناول نگار، سماجی حقیقت نگاری اور نسائی کردار نگاری کے ممتاز فنکار

شرت چندر چٹوپادھیائے بنگالی زبان کے نہایت مقبول، کثیر المطالعہ اور ہمہ گیر شہرت رکھنے والے ناول نگار اور کہانی کار تھے، جن کا شمار برصغیر کے سب سے زیادہ پڑھے اور ترجمہ کیے جانے والے ادیبوں میں ہوتا ہے۔

شرت چندر 15 ستمبر 1876ء کو مغربی بنگال کے ضلع ہوگلی کے ایک چھوٹے سے گاؤں 'دیوانند پور' میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن اور جوانی شدید غربت میں گزری۔ ان کے والد موتی لال کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہ تھا، تاہم شرت چندر کو ادب کا شوق اپنے والد ہی سے ورثے میں ملا۔ مالی حالات کی وجہ سے ان کی تعلیم ادھوری رہ گئی۔

شرت چندر کی طبیعت میں ایک بے چینی اور آوارہ گردی کا عنصر تھا۔ وہ ایک عرصے تک 'سنیاسی' کے روپ میں پورے ہندوستان میں گھومتے رہے۔ 1903ء میں وہ قسمت آزمائی کے لیے برما (موجودہ میانمار) چلے گئے جہاں انہوں نے تقریباً 13 سال گزارے۔ وہاں انہوں نے نچلے طبقے کے مزدوروں اور کاریگروں کے ساتھ زندگی بسر کی اور ان کی زندگیوں کا گہرا مشاہدہ کیا، جو بعد میں ان کے ادب کا موضوع بنا۔

شرت چندر نے محض 17 سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا تھا، لیکن برما میں قیام کے دوران تقریباً 18 سال تک قلم سے دور رہے۔ 1913ء میں رسالہ 'جمنا' کے لیے ایک کہانی لکھی جس نے انہیں راتوں رات مشہور کر دیا۔

ان کے فن کی سب سے بڑی خوبی ان کا سادہ، قدرتی اور اثر انگیز اسلوبِ نگارش ہے۔ انہوں نے بنگالی متوسط طبقے، دیہاتی معاشرت اور خاندانی نظام کی ایسی تصویر کشی کی جس میں ہر ہندوستانی کو اپنا عکس نظر آتا ہے۔

شرت چندر کے ناولوں نے برصغیر کے ادب پر گہرے نقوش چھوڑے۔ دیوداس ان کا سب سے مشہور ناول جس پر اب تک پاکستان اور بھارت میں 20 سے زائد فلمیں اور ڈرامے بن چکے ہیں۔

سری کانت (Srikanta): ان کا ایک نیم سوانحی اور طویل شاہکار ناول۔ بڑی دیدی (Bardidi): ان کی پہلی مطبوعہ تصنیف۔ پتھیر دابی (Pather Dabi): ایک سیاسی ناول جس میں برطانوی راج پر کڑی تنقید کی گئی تھی، جس کی وجہ سے برطانوی حکومت نے اس پر پابندی لگا دی تھی۔

دیگر کتب: چریترہین، براج باؤ، چندر ناتھ اور بہت سی کہانیاں۔

شرت چندر کے ناولوں میں دیہی زندگی، متوسط اور نچلے طبقے کے مسائل، سماجی ناانصافیاں، عورت کی مظلومیت، محبت، اخلاقی کشمکش اور معاشرتی جبر نہایت مؤثر انداز میں پیش ہوا ہے۔ خصوصاً عورتوں کے کرداروں کی نفسیاتی گہرائی اور معاشرتی بندشوں کے خلاف ان کی جدوجہد ان کے ادب کا نمایاں وصف ہے۔ اسی باعث انہیں سماجی حقیقت نگاری کا بڑا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔

شرت چندر ہندوستانی تحریکِ آزادی کے سرگرم حامی تھے۔ وہ 1921ء سے 1936ء تک ہاؤڑہ ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی کے صدر رہے۔ سبھاش چندر بوس اور چترنجن داس جیسے انقلابیوں کے ساتھ ان کے گہرے مراسم تھے۔

علمی خدمات کے اعتراف میں کلکتہ یونیورسٹی نے انہیں 1923ء میں 'جگت تارنی گولڈ میڈل' سے نوازا۔

ڈھاکہ یونیورسٹی نے 1936ء میں انہیں ڈی لٹ (D.Litt) کی اعزازی ڈگری عطا کی۔

وفات: 16 جنوری 1938ء کو کلکتہ میں وفات پائی۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے