ہماری پسند

منتخب شاعری


غزل
ے ,آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے
ی ,آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
ے ,اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے
ا ,اب اس جہان_برہنہ کا استعارہ ہوا
ے ,اب بھی توہین_اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
ی ,اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی
ے ,اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے
ے ,اب دور_آسماں ہے نہ دور_حیات ہے
ے ,اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے
ے ,اب عشق رہا نہ وہ جنوں ہے
ے ,اب نہ بہل سکے_گا دل اب نہ دیے جلائیے
ن ,اب وہ اگلا سا التفات نہیں
ن ,اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں
ا ,اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا
ے ,اب وہی حرف_جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
ن ,ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں
ے ,ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
ن ,ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
ے ,آپ کا اعتبار کون کرے
ے ,اپنی آنکھوں کے سمندر میں اتر جانے دے
ن ,اپنی جولاں_گاہ زیر_آسماں سمجھا تھا میں
ل ,اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
ے ,اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے
ا ,اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا
ے ,اپنے ہمراہ جلا رکھا ہے
ے ,اپنی ہی روانی میں بہتا نظر آتا ہے
ے ,اتر کے دھوپ جب آئے_گی شب کے زینے سے
ہ ,اتفاق اپنی جگہ خوش_قسمتی اپنی جگہ
ن ,اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں
ا ,اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہا