غزل ترجمے کے ساتھ

غزلوں کی فہرست، ترجمے کے ساتھ


غزل
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
ابن مریم ہوا کرے کوئی
ابھی سے کیسے کہوں تم کو بے وفا صاحب
آپ جن کے قریب ہوتے ہیں
آپ کا اعتبار کون کرے
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
آج پھر چاند اس نے مانگا ہے
آدمی آدمی سے ملتا ہے
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
اس سے مت کہنا مری بے سر و سامانی تک
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
اس نے رخ سے ہٹا کے بالوں کو
آشیانے کی بات کرتے ہو
اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
ان کی بے رخی میں بھی التفات شامل ہے
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہوتے تک
اہل الفت کے حوالوں پہ ہنسی آتی ہے
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
بات میری کبھی سنی ہی نہیں
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بڑی سرد رات تھی کل مگر بڑی آنچ تھی بڑا تاؤ تھا
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا
ترے خیال کا چرچا ترے خیال کی بات
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
تمام فکر زمانے کی ٹال دیتا ہے
تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
تنگ تھی جا خاطر ناشاد میں
تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے
چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے
دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
درد سے میرے ہے تجھ کو بیقراری ہاے ہاے
درد منت کش دوا نہ ہوا
دست عدو سے شب جو وہ ساغر لیا کیے
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے
دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ
دل چرا کر نظر چرائی ہے
دل سے اپنے خودبخود کچھ پوچھئے میرے لیے
دل قابل محبت جاناں نہیں رہا
دل کے بے چین جزیروں میں اتر جائے گا
دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
دل ناکام کے ہیں کام خراب
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پانو
دوست جب ذی وقار ہوتا ہے
دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں
ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں
رونے سے اور عشق میں بیباک ہو گئے
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی
شفق کے رنگ نکلنے کے بعد آئی ہے
شکستہ دل اندھیری شب اکیلا راہبر کیوں ہو
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
عشق میں غیرت جذبات نے رونے نہ دیا
عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 181 items