آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے

مجروح سلطانپوری

آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے

مجروح سلطانپوری

MORE BY مجروح سلطانپوری

    آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے

    کام چل نہیں سکتا اب کسی بہانے سے

    عہد انقلاب آیا دور آفتاب آیا

    منتظر تھیں یہ آنکھیں جس کی اک زمانے سے

    اب زمین گائے گی ہل کے ساز پر نغمے

    وادیوں میں ناچیں گے ہر طرف ترانے سے

    اہل دل اگائیں گے خاک سے مہ و انجم

    اب گہر سبک ہوگا جو کے ایک دانے سے

    منچلے بنیں گے اب رنگ و بو کے پیراہن

    اب سنور کے نکلے گا حسن کارخانے سے

    عام ہوگا اب ہم دم سب پہ فیض فطرت کا

    بھر سکیں گے اب دامن ہم بھی اس خزانے سے

    میں کہ ایک محنت کش میں کہ تیرگی دشمن

    صبح نو عبارت ہے میرے مسکرانے سے

    خودکشی ہی راس آئی دیکھ بد نصیبوں کو!

    خود سے بھی گریزاں ہیں بھاگ کر زمانے سے

    اب جنوں پہ وہ ساعت آ پڑی کہ اے مجروحؔ

    آج زخم سر بہتر دل پہ چوٹ کھانے سے

    RECITATIONS

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے مجروح سلطانپوری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY