آہٹ جو سنائی دی ہے ہجر کی شب کی ہے

شہریار

آہٹ جو سنائی دی ہے ہجر کی شب کی ہے

شہریار

MORE BY شہریار

    آہٹ جو سنائی دی ہے ہجر کی شب کی ہے

    یہ رائے اکیلی میری نہیں ہے سب کی ہے

    سنسان سڑک سناٹے اور لمبے سائے

    یہ ساری فضا اے دل تیرے مطلب کی ہے

    تری دید سے آنکھیں جی بھر کے سیراب ہوئیں

    کس روز ہوا تھا ایسا بات یہ کب کی ہے

    تجھے بھول گیا کبھی یاد نہیں کرتا تجھ کو

    جو بات بہت پہلے کرنی تھی اب کی ہے

    مرے سورج آ! مرے جسم پہ اپنا سایہ کر

    بڑی تیز ہوا ہے سردی آج غضب کی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 335)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY