Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آج کی کیا فکر ہو کیا کل کا اندیشہ کریں

حامد الہ آبادی

آج کی کیا فکر ہو کیا کل کا اندیشہ کریں

حامد الہ آبادی

آج کی کیا فکر ہو کیا کل کا اندیشہ کریں

ہے یہی جینا تو اس جینے پہ کیا تکیہ کریں

خار ہائے راہ کو پیروں سے کب تک روندیئے

تابکے خوش فہمیوں کو نذر آئندہ کریں

ان کا عہد حکمرانی کھو چکا اپنا بھرم

کاوشیں اپنی وہ ہر ہر موڑ پر کندہ کریں

ماریششس میں اہل دل کی شان دلداری نہ پوچھ

جان سے اپنوں کو ماریں غیر کو زندہ کریں

کہہ گئے ہوں گے سرور انگیز لے میں کچھ سے کچھ

کیا ضروری ہے کہ وہ پورا بھی اب وعدہ کریں

بندگی ایسی بھی کیا جس میں خلوص دل نہ ہو

خواہش جنت میں کیوں سجدوں کو آلودہ کریں

منتظر ہیں جانے کب سے ان کے مشتاقان دید

آتے جاتے وہ کہیں مل جائیں تو سجدہ کریں

ان پریشاں حال چہروں کی اداسی کیا کہوں

جاں فشانی کر کے دن کی شب کو جو فاقہ کریں

خود پکار اٹھے گی ہر چشم تجسس آفریں

منکشف کیوں کر ہم ان کے راز سر بستہ کریں

با فراغت زندگی کی ہے یہ شرط اولیں

اک برہمن زاد کو ہم روز و شب سجدہ کریں

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے