آکاش کی حسین فضاؤں میں کھو گیا

کاملؔ بہزادی

آکاش کی حسین فضاؤں میں کھو گیا

کاملؔ بہزادی

MORE BY کاملؔ بہزادی

    آکاش کی حسین فضاؤں میں کھو گیا

    میں اس قدر اڑا کہ خلاؤں میں کھو گیا

    کترا رہے ہیں آج کے سقراط زہر سے

    انسان مصلحت کی اداؤں میں کھو گیا

    شاید مرا ضمیر کسی روز جاگ اٹھے

    یہ سوچ کے میں اپنی صداؤں میں کھو گیا

    لہرا رہا ہے سانپ سا سایہ زمین پر

    سورج نکل کے دور گھٹاؤں میں کھو گیا

    موتی سمیٹ لائے سمندر سے اہل دل

    وہ شخص بے عمل تھا دعاؤں میں کھو گیا

    ٹھہرے ہوئے تھے جس کے تلے ہم شکستہ پا

    وہ سائباں بھی تیز ہواؤں میں کھو گیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    آکاش کی حسین فضاؤں میں کھو گیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites