آپ تنہا نہ کہیں جائیں ٹہلنے کے لئے
آپ تنہا نہ کہیں جائیں ٹہلنے کے لئے
ساتھ اٹھتی ہے قیامت بھی تو چلنے کے لئے
بن چکی قبر مری جب تو وہ ہنس کر بولے
اک جگہ اور ہوئی ناز سے چلنے کے لئے
دیکھیے تا بہ جگر آئے کہ دل تک آئے
اٹھ رہی ہے نگۂ ناز ٹہلنے کے لئے
شمع کے گل مرے مدفن پہ چڑھانے لائے
حسن دل سوز یہ پہلو مرے جلنے کے لئے
تیزیٔ نوک مژہ سینے میں روزن کر دے
حسرتیں دل میں تڑپتی ہیں نکلنے کے لئے
گل ہوئی شمع دم صبح یہ کہہ کر صفدرؔ
کل پھر آنا ہے اسی بزم میں جلنے کے لئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.