آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم

نعمان شوق

آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم

نعمان شوق

MORE BY نعمان شوق

    آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم

    ایک مجمع کے لیے شعر سناتے ہوئے ہم

    کس گماں میں ہیں ترے شہر کے بھٹکے ہوئے لوگ

    دیکھنے والے پلٹ کر نہیں جاتے ہوئے ہم

    کیسی جنت کے طلب گار ہیں تو جانتا ہے

    تیری لکھی ہوئی دنیا کو مٹاتے ہوئے ہم

    ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی

    یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم

    توڑ ڈالیں گے کسی دن گھنے جنگل کا غرور

    لکڑیاں چنتے ہوئے آگ جلاتے ہوئے ہم

    تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسے

    دیکھتے رہتے ہیں دیوار سے جاتے ہوئے ہم

    خود کو یاد آتے ہی بے ساختہ ہنس پڑتے ہیں

    کبھی خط تو کبھی تصویر جلاتے ہوئے ہم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY