Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اب احترام ہی کہیے اسے کہ ڈر کے گئے

فاروق انجینئر

اب احترام ہی کہیے اسے کہ ڈر کے گئے

فاروق انجینئر

MORE BYفاروق انجینئر

    اب احترام ہی کہیے اسے کہ ڈر کے گئے

    ترے دیار میں سارے سوار اتر کے گئے

    ہے برگ و بار کا گرنا تو قرض موسم کا

    ہوائے تند پرندے کہاں شجر کے گئے

    ہو شہر شہر خموشی کا کچھ سبب شاید

    مگر وہ شور و شغب بھی تو بحر و بر کے گئے

    مری ہی جان کے دشمن ہیں شاہکار مرے

    مرے خلاف کرشمے مرے ہنر کے گئے

    ہر اک سوال کا دیتے ہیں صاف صاف جواب

    وہ کیا گئے کہ بہانے اگر مگر کے گئے

    کسی کے ہاتھ میں پتھر کہاں وہ صحن میں پیڑ

    ہمارے عہد سے موسم شجر حجر کے گئے

    ہمیں بھی کوچۂ قاتل کا تھا چلن معلوم

    اسی لیے تو گلی میں تری سنور کے گئے

    تو اپنے چاک گریباں کا آ گیا ہے خیال

    تماشا دیکھنے جب لوگ ادھر ادھر کے گئے

    نہ عشق ہے وہ نہ غالب نہ آستاں نہ وفا

    اسی کے ساتھ ہی قصے بھی سنگ و سر کے گئے

    سفر میں دیر تلک ہم سفر تھا گھر فاروق

    نظر میں دور تلک عکس بام و در کے گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 13-14-15 December 2024 - Jawaharlal Nehru Stadium , Gate No. 1, New Delhi

    Get Tickets
    بولیے