اب کہاں دوست ملیں ساتھ نبھانے والے

صدا انبالوی

اب کہاں دوست ملیں ساتھ نبھانے والے

صدا انبالوی

MORE BYصدا انبالوی

    اب کہاں دوست ملیں ساتھ نبھانے والے

    سب نے سیکھے ہیں اب آداب زمانے والے

    دل جلاؤ یا دیئے آنکھوں کے دروازے پر

    وقت سے پہلے تو آتے نہیں آنے والے

    اشک بن کے میں نگاہوں میں تری آؤں گا

    اے مجھے اپنی نگاہوں سے گرانے والے

    وقت بدلا تو اٹھاتے ہیں اب انگلی مجھ پر

    کل تلک حق میں مرے ہاتھ اٹھانے والے

    وقت ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا

    درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رلانے والے

    اک نظر دیکھ تو مجبوریاں بھی تو میری

    اے مری لغزشوں پر آنکھ ٹکانے والے

    کون کہتا ہے برے کام کا پھل بھی ہے برا

    دیکھ مسند پہ ہیں مسجد کو گرانے والے

    یہ سیاست ہے کہ لعنت ہے سیاست پہ صداؔ

    خود ہیں مجرم بنے قانون بنانے والے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    غلام عباس خاں

    غلام عباس خاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY