اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سے

جلیل مانک پوری

اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سے

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سے

    او شوخ چشم پھونک دے برق نگاہ سے

    کس شان سے چلا ہے مرا شہسوار حسن

    فتنے پکارتے ہیں ذرا ہٹ کے راہ سے

    جھپکی پلک تو برق فلک سے زمیں پہ تھی

    سنبھلا نہ کوئی گر کے تمہاری نگاہ سے

    دلچسپ ہو گئی ترے چلنے سے رہ گزر

    اٹھ اٹھ کے گرد راہ لپٹتی ہے راہ سے

    میزاں کھڑی ہوئی مرے آگے نہ روز حشر

    دبنا پڑا اسے مرے بار گناہ سے

    دیکھو پھر ایسے دیکھنے والے نہ پاؤ گے

    کیوں خاک میں ملاتے ہو نیچی نگاہ سے

    آئینے آرسی تو فقط دیکھنے کے ہیں

    دیکھو تم اپنے حسن کو میری نگاہ سے

    کثرت سے مے جو پی ہے نظر ہے مآل پر

    رعشہ نہیں ہے کانپ رہا ہوں گناہ سے

    پایا بلند کیوں نہ ہمارا ہو اے جلیلؔ

    پایا ہے فیض امیر سخن دستگاہ سے

    مآخذ :
    • کتاب : Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 123)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY