ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میں

سلیم کوثر

ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میں

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میں

    سمجھ رہی تھی کسی کام سے ملا ہوں میں

    شکست شب تری تقریب سے ذرا پہلے

    دیے جلاتی ہوئی شام سے ملا ہوں میں

    اجل سے پہلے بھی ملتا رہا ہوں پر اب کے

    بڑے سکوں بڑے آرام سے ملا ہوں میں

    تری قبا کی مہک ہر طرف نمایاں تھی

    ہوائے وادئ گل فام سے ملا ہوں میں

    میں جانتا ہوں مکینوں کی خامشی کا سبب

    مکاں سے پہلے در و بام سے ملا ہوں میں

    سلیمؔ نام بتایا تھا غالباً اس نے

    کل ایک شاعر گمنام سے ملا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY