اچھی گزر رہی ہے دل خود کفیل سے

احمد جاوید

اچھی گزر رہی ہے دل خود کفیل سے

احمد جاوید

MORE BYاحمد جاوید

    اچھی گزر رہی ہے دل خود کفیل سے

    لنگر سے روٹی لیتے ہیں پانی سبیل سے

    دنیا کا کوئی داغ مرے دل کو کیا لگے

    مانگا نہ اک درم بھی کبھی اس بخیل سے

    کیا بوریا نشیں کو ہوس تاج و تخت کی

    کیا خاک آشنا کو غرض اسپ و فیل سے

    دل کی طرف سے ہم کبھی غافل نہیں رہے

    کرتے ہیں پاسبانی شہر اس فصیل سے

    گہوارۂ سفر میں کھلی ہے ہماری آنکھ

    تعمیر اپنے گھر کی ہوئی سنگ میل سے

    اک شخص بادشاہ تو اک شخص ہے وزیر

    گویا نہیں ہیں دونوں ہماری قبیل سے

    دنیا مرے پڑوس میں آباد ہے مگر

    میری دعا سلام نہیں اس ذلیل سے

    جاویدؔ ایک غم کے سوا دل میں ہے بھی کیا

    ہم گھر چلا رہے ہیں متاع قلیل سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY