ایسے گھر میں رہ رہا ہوں دیکھ لے بے شک کوئی

اقبال ساجد

ایسے گھر میں رہ رہا ہوں دیکھ لے بے شک کوئی

اقبال ساجد

MORE BY اقبال ساجد

    ایسے گھر میں رہ رہا ہوں دیکھ لے بے شک کوئی

    جس کے دروازے کی قسمت میں نہیں دستک کوئی

    یوں تو ہونے کو سبھی کچھ ہے مرے دل میں مگر

    اس دکاں پر آج تک آیا نہیں گاہک کوئی

    وہ خدا کی کھوج میں خود آخری حد تک گیا

    خود کو پانے کی مگر کوشش نہ کی انتھک کوئی

    باغ میں کل رات پھولوں کی حویلی لٹ گئی

    چشم شبنم سے چرا کر لے گیا ٹھنڈک کوئی

    دے گیا آنکھوں کو فرش راہ بننے کا صلہ

    دے گیا بینائی کو سوغات میں دیمک کوئی

    ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی

    میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی

    وہ بھی ساجدؔ تھا مرے جذبوں کی چوری میں شریک

    اس کی جانب کیوں نہیں اٹھی نگاہ شک کوئی

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-iqbaal saajid (Pg. 85)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY