عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا

اسعد بدایونی

عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا

اسعد بدایونی

MORE BY اسعد بدایونی

    عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا

    کبھی حاصل ہمیں خس خانہ و برفاب رہتا تھا

    ابھرنا ڈوبنا اب کشتیوں کا ہم کہاں دیکھیں

    وہ دریا کیا ہوا جس میں سدا گرداب رہتا تھا

    وہ سورج سو گیا ہے برف زاروں میں کہیں جا کر

    دھڑکتا رات دن جس سے دل بیتاب رہتا تھا

    جسے پڑھتے تو یاد آتا تھا تیرا پھول سا چہرہ

    ہماری سب کتابوں میں اک ایسا باب رہتا تھا

    سہانے موسموں میں اس کی طغیانی قیامت تھی

    جو دریا گرمیوں کی دھوپ میں پایاب رہتا تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY