Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

انداز نرالا ہے ادا اور ہی کچھ ہے

سید یوسف علی خاں ناظم

انداز نرالا ہے ادا اور ہی کچھ ہے

سید یوسف علی خاں ناظم

انداز نرالا ہے ادا اور ہی کچھ ہے

یہ حسن نہیں نام خدا اور ہی کچھ ہے

کہتے ہو ہم اب غیر کو آنے نہیں دیتے

یا رب یہی سچ ہو پہ سنا اور ہی کچھ ہے

پردہ نہ رکھا تیرے لب روح فزا نے

ہم جانتے تھے آب بقا اور ہی کچھ ہے

جو میں نے کہا تھا وہ بگڑنے کی نہ تھی بات

کہتا ہوں کہ قاصد نے کہا اور ہی کچھ ہے

ہمدم یہی جاناں کی جدائی کا ہے رونا

کہتے ہیں جسے مرگ وہ کیا اور ہی کچھ ہے

عیسیٰ سے کہو مردۂ صد سالہ جلا لیں

بیمار محبت کی دوا اور ہی کچھ ہے

فرہاد ہوس پیشہ نے بھی دی تو سہی جان

پر شیوۂ ارباب وفا اور ہی کچھ ہے

تم حسن کی خیرات میں کیا دیتے ہو لاؤ

ہر چند تمنائے گدا اور ہی کچھ ہے

ہم زہد و عبادت کے بھی منکر نہیں ناظمؔ

پر قاعدۂ فقر و فنا اور ہی کچھ ہے

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے