اندھیرا اتنا نہیں ہے کہ کچھ دکھائی نہ دے

وحید اختر

اندھیرا اتنا نہیں ہے کہ کچھ دکھائی نہ دے

وحید اختر

MORE BY وحید اختر

    اندھیرا اتنا نہیں ہے کہ کچھ دکھائی نہ دے

    سکوت ایسا نہیں ہے جو کچھ سنائی نہ دے

    جو سننا چاہو تو بول اٹھیں گے اندھیرے بھی

    نہ سننا چاہو تو دل کی صدا سنائی نہ دے

    جو دیکھنا ہو تو آئینہ خانہ ہے یہ سکوت

    ہو آنکھ بند تو اک نقش بھی دکھائی نہ دے

    یہ روحیں اس لیے چہروں سے خود کو ڈھانپے ہیں

    ملے ضمیر تو الزام بے وفائی نہ دے

    کچھ ایسے لوگ بھی تنہا ہجوم میں ہیں چھپے

    کہ زندگی انہیں پہچان کر دہائی نہ دے

    ہوں اپنے آپ سے بھی اجنبی زمانے کے ساتھ

    اب اتنی سخت سزا دل کی آشنائی نہ دے

    سبھی کے ذہن ہیں مقروض کیا قدیم و جدید

    خود اپنا نقد دل و جاں کہیں دکھائی نہ دے

    بہت ہے فرصت دیوانگی کی حسرت بھی

    وحیدؔ وقت گر اذن غزل سرائی نہ دے

    مآخذ:

    • کتاب : shab khuun (48) (rekhta website) (Pg. 12)
    • اشاعت : 1970

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY