انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں

علامہ اقبال

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    INTERESTING FACT

    حصہ اول : 1905 تک ( بانگ درا)

    انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں

    یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں

    علاج درد میں بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں

    جو تھے چھالوں میں کانٹے نوک سوزن سے نکالے ہیں

    پھلا پھولا رہے یارب چمن میری امیدوں کا

    جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

    رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی

    نرالا عشق ہے میرا نرالے میرے نالے ہیں

    نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی

    نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں

    نہیں بیگانگی اچھی رفیق راہ منزل سے

    ٹھہر جا اے شرر ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں

    امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو

    یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں

    مرے اشعار اے اقبالؔ کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو

    مرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ دردانگیز نالے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY