اپنا ہر عضو چشم بینا ہے

گویا فقیر محمد

اپنا ہر عضو چشم بینا ہے

گویا فقیر محمد

MORE BYگویا فقیر محمد

    اپنا ہر عضو چشم بینا ہے

    اس قدر انتظار تیرا ہے

    جو ہے محبوب تیرا شیدا ہے

    یوسف آگے تری زلیخا ہے

    ایک مہ رو بغل میں سوتا ہے

    آسماں پر دماغ اپنا ہے

    خاک میں جو ملا دیا مجھ کو

    آسماں نے زمیں کو سونپا ہے

    کس نے چہرے سے بال سرکائے

    شام کو صبح آشکارا ہے

    استخواں تک کبھی گزر نہ کیا

    میرے حق میں ہما بھی عنقا ہے

    تیرے قدموں پہ کیوں نہ قیس گرے

    نقش پا رشک روئے لیلیٰ ہے

    ان دنوں اے مسیح دم تجھ پر

    دم نکلتا ہے دم نکلتا ہے

    تولوں اس سیم تن کو نظروں میں

    یہ مرا جسم زار کانٹا ہے

    حسن خوباں ہلال و بدر کی طرح

    کبھی کم ہے کبھی زیادہ ہے

    اس بیاباں میں لے گئی وحشت

    ماہ نو جس کا ایک کانٹا ہے

    دل میں رہتا ہے اس کمر کا خیال

    کیا یہ عنقا کا آشیانا ہے

    آؤ آنکھوں میں ایک دم ٹھہرو

    پتلیوں کا یہاں تماشا ہے

    کف پا بھی نہ ہم کو دکھلائے

    برہمن ہاتھ دیکھ جاتا ہے

    یار نام خدا ہے کشتی میں

    ناخدا آج پار بیڑا ہے

    تیرا نقش قدم زمیں پہ نہیں

    آسماں پر کوئی ستارا ہے

    ہم سے تم دشمنی لگے کرنے

    دوستی اب نصیب اعدا ہے

    کہہ رہے ہیں شب فراق میں ہم

    آج کس کو امید فردا ہے

    خار چبھ کر جو ٹوٹتا ہے کبھی

    آبلہ پھوٹ پھوٹ روتا ہے

    آنکھیں نرگس ہیں رخ ہے گل قد سرو

    تو تو اے گل چمن سراپا ہے

    کام پوشاک سے نہیں ہم کو

    عیب پوشی ہمارا شیوہ ہے

    دے سلیماں کی اس پری کو قسم

    اس طرح شیشے میں اتارا ہے

    زلف نے نقد دل کئے ہیں جمع

    اب تو یہ سانپ کوڑیالا ہے

    پہنچے ہیں گور کے کنارے ہم

    ہم سے اب تک تمہیں کنارا ہے

    جرم گویاؔ کے بخشوا دینا

    یا محمد فقیر تیرا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY