اپنے جینے کے ہم اسباب دکھاتے ہیں تمہیں

سلیم صدیقی

اپنے جینے کے ہم اسباب دکھاتے ہیں تمہیں

سلیم صدیقی

MORE BYسلیم صدیقی

    اپنے جینے کے ہم اسباب دکھاتے ہیں تمہیں

    دوستو آؤ کہ کچھ خواب دکھاتے ہیں تمہیں

    تم نے غرقاب سفینے تو بہت دیکھے ہیں

    سر پٹکتے ہوئے سیلاب دکھاتے ہیں تمہیں

    حسن کا شور جو برپا ہے ذرا تھمنے دو

    عشق کا لہجہ نایاب دکھاتے ہیں تمہیں

    میرے پھیلے ہوئے دامن کے کبھی ساتھ چلو

    منہ چھپاتے ہوئے احباب دکھاتے ہیں تمہیں

    چھت پہ آ جاؤ ہر اک کام سے فارغ ہو کر

    چاندنی رات کے محراب دکھاتے ہیں تمہیں

    کیسے آنکھوں میں اترتے ہیں لہو کے قطرے

    کیسے بنتا ہے یہ تیزاب دکھاتے ہیں تمہیں

    تم ذرا پیاس کی معراج پہ پہنچو تو سہی

    ریگزاروں میں بھی گرداب دکھاتے ہیں تمہیں

    ایک مقصد کے لئے امن کی تحریروں میں

    خون سے لکھے ہوئے باب دکھاتے ہیں تمہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY