اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں

تعشق لکھنوی

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں

تعشق لکھنوی

MORE BYتعشق لکھنوی

    اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں

    کیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیں

    پڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی

    لڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں

    یاد کیں نشہ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کس کی

    غش تجھے اے دل بیمار چلے آتے ہیں

    راہ میں صاحب اکسیر کھڑے ہیں مشتاق

    خاکساران در یار چلے آتے ہیں

    باغ میں پھول ہنسے دیتے ہیں بے دردی سے

    نالۂ مرغ گرفتار چلے آتے ہیں

    دیکھ کر ابروئے خم دار پھرے یوں عاشق

    غل ہے کھائے ہوئے تلوار چلے آتے ہیں

    جس طرح نرغے میں چلتے ہیں غزال صحرا

    یوں تری چشم کے بیمار چلے آتے ہیں

    ہوں وہ بے خود کہ یہ ہے نالۂ سوزاں پہ گماں

    شعلۂ آتش رخسار چلے آتے ہیں

    چاہئے شور قیامت پئے تعظیم اٹھے

    آپ کے عاشق رفتار چلے آتے ہیں

    شور سنتے ہیں جو ہم چاک گریبانوں کا

    بند کھولے سر بازار چلے آتے ہیں

    ہر طرف حشر میں جھنکار ہے زنجیروں کی

    ان کی زلفوں کے گرفتار چلے آتے ہیں

    چل گئی تیغ نگہ آج تعشقؔ پہ ضرور

    لوگ اس کوچہ سے خوں بار چلے آتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY