اپنی تقدیر کا شکوہ نہیں لکھا میں نے

حامد مختار حامد

اپنی تقدیر کا شکوہ نہیں لکھا میں نے

حامد مختار حامد

MORE BYحامد مختار حامد

    اپنی تقدیر کا شکوہ نہیں لکھا میں نے

    خود کو محروم تمنا نہیں لکھا میں نے

    اے قلم کرنا مرے ہاتھ کی لغزش کو معاف

    تجھ سے شاہوں کا قصیدہ نہیں لکھا میں نے

    گر نہ جائے ترے معیار سے انداز حروف

    یوں کبھی نام بھی تیرا نہیں لکھا میں نے

    ہوں اسی جرم کی پاداش میں پیاسا شاید

    تپتے صحراؤں کو دریا نہیں لکھا میں نے

    آج کا خط ہی اسے بھیجا ہے کورا لیکن

    آج کا خط ہی ادھورا نہیں لکھا میں نے

    جو نہ پہچان سکا وقت کی نبضیں حامدؔ

    اس مسیحا کو مسیحا نہیں لکھا میں نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے