اپنی تو گزری ہے اکثر اپنی ہی من مانی میں

ولاس پنڈت مسافر

اپنی تو گزری ہے اکثر اپنی ہی من مانی میں

ولاس پنڈت مسافر

MORE BYولاس پنڈت مسافر

    اپنی تو گزری ہے اکثر اپنی ہی من مانی میں

    لیکن اچھے کام بھی ہم نے کر ڈالے نادانی میں

    ہم ٹھہرے آوارہ پنچھی سیر گگن کی کرتے ہیں

    جان کے ہم کو کیا کرنا ہے کون ہے کتنے پانی میں

    روح کو اس کی راہ کا پتھر بننا ہی منظور نہ تھا

    بازی ہم نے ہی جیتی ہے اپنی اس قربانی میں

    یار نئی کچھ بات اگر ہو ہم بھی سجدہ کر لیں گے

    اکثر ایک ہی بات سنی ہے سب سنتوں کی بانی میں

    محنت کر کے ہم تو آخر بھوکے بھی سو جائیں گے

    یا مولا تو برکت رکھنا بچوں کی گڑ دھانی میں

    موقعے تو ہم تک بھی آئے خوب کما کھا لیتے ہم

    لیکن ایک ضمیر تھا بھیتر اللہ کی نگرانی میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY