اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کی

جلیل مانک پوری

اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کی

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کی

    ہو نہیں سکتی دوا بیمار سے بیمار کی

    مہر کی ان پر ضرورت کیا ہے اے پیر مغاں

    ایک اک خم پر لگی ہے آنکھ ہر مے خوار کی

    خیر ہو یارب کہیں وہ خود نہ بن جائیں رقیب

    آئینے پر آج پڑتی ہیں نگاہیں پیار کی

    خون کر کے دل ہمارا پھر گئی وہ مست آنکھ

    ایک ہی چلو میں نیت بھر گئی مے خوار کی

    دید کے طالب تھے موسیٰ طور کو تھی کیا خبر

    پھونک کر رکھ دے گی بجلی جلوۂ دیدار کی

    جلوۂ محبوب سے خالی نہ دیکھا دل کوئی

    آئینے ہیں سیکڑوں اور ایک صورت یار کی

    ہو سبک رفتار کتنی ہی نسیم صبح دم

    آنکھ کھل جاتی ہے پھر بھی نرگس بیمار کی

    دختر رز نے دیے چھینٹے کچھ ایسے ساقیا

    پانی پانی ہو گئی توبہ ہر اک مے خوار کی

    کچھ پھلے پھولے نہ یہ نازک مضامیں اے جلیلؔ

    بے کھلے مرجھا گئیں کلیاں مرے گل زار کی

    مآخذ:

    • کتاب : Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 124)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY