بہ انداز دگر اب عہد و پیماں ہوتے جاتے ہیں
بہ انداز دگر اب عہد و پیماں ہوتے جاتے ہیں
کسی عنواں سہی جینے کے ساماں ہوتے جاتے ہیں
خزاں کے دور کو جو مستقل سمجھے غلط سمجھے
بہار آئی گلستاں پھر گلستاں ہوتے جاتے ہیں
جنہیں تھی موج بوئے گل نوید چاک دامانی
وہ دیوانے بھی مانوس بہاراں ہوتے جاتے ہیں
بجا تھا گر مجھے اپنی محبت پر بھروسہ تھا
کہ اس جانب سے بھی اب عہد و پیماں ہوتے جاتے ہیں
کہو اے بوم و شپر اب دلوں پر کیا گزرتی ہے
کہ آثار سحر کچھ کچھ نمایاں ہوتے جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.