باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر
باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر
کس نے شفق پہ مل دیے پھولوں کے رنگ اتار کر
شام کو موجۂ ہوا جانب دشت لے اڑے
صبح چمن میں آ گئے خاک پہ شب گزار کر
سایۂ آفتاب میں برگ و شرر ٹھٹھر گئے
برف کہاں سے آ گئی دھوپ کا روپ دھار کر
پاس ہی منزل مراد خاک میں تھی چھپی ہوئی
راہ میں پا بریدہ لوگ بیٹھ چکے تھے ہار کر
آج ترے خیال سے دل کو بہت سکوں ملا
ڈوب چلی یہ موج بھی مجھ کو ابھار ابھار کر
جلوۂ ماہتاب بھی شعبدۂ خیال ہے
رات کے پاس کچھ نہیں صبح کا انتظار کر
ولولۂ حیات کے دل میں کئی چراغ تھے
وقت نے سب بجھا دیے ایک ہی پھونک مار کر
- کتاب : Deewar pe dastak (Pg. 55)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.