باتوں باتوں میں ٹوٹ جاتے ہیں
باتوں باتوں میں ٹوٹ جاتے ہیں
خواب آنکھوں میں ٹوٹ جاتے ہیں
خود کو ہم جوڑنے کی خواہش میں
کتنے خانوں میں ٹوٹ جاتے ہیں
ٹوٹ جاتے ہیں ذہن میں ہی خیال
ہم خیالوں میں ٹوٹ جاتے ہیں
خود کو منزل سمجھنے والے قدم
رہ گزاروں میں ٹوٹ جاتے ہیں
کیسے کیسے فلک ارادوں کے
بس ارادوں میں ٹوٹ جاتے ہیں
جانے کیسے زمین کے تارے
آسمانوں میں ٹوٹ جاتے ہیں
اک نظر اور سیکڑوں منظر
ہم نظاروں میں ٹوٹ جاتے ہیں
متن میں ٹوٹتے ہیں کچھ افکار
کچھ حوالوں میں ٹوٹ جاتے ہیں
- کتاب : عشق (Pg. 30)
- Author :معید رشیدی
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2024)
- اشاعت : 2nd
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.