Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

باتوں باتوں میں ٹوٹ جاتے ہیں

معید رشیدی

باتوں باتوں میں ٹوٹ جاتے ہیں

معید رشیدی

MORE BYمعید رشیدی

    باتوں باتوں میں ٹوٹ جاتے ہیں

    خواب آنکھوں میں ٹوٹ جاتے ہیں

    خود کو ہم جوڑنے کی خواہش میں

    کتنے خانوں میں ٹوٹ جاتے ہیں

    ٹوٹ جاتے ہیں ذہن میں ہی خیال

    ہم خیالوں میں ٹوٹ جاتے ہیں

    خود کو منزل سمجھنے والے قدم

    رہ گزاروں میں ٹوٹ جاتے ہیں

    کیسے کیسے فلک ارادوں کے

    بس ارادوں میں ٹوٹ جاتے ہیں

    جانے کیسے زمین کے تارے

    آسمانوں میں ٹوٹ جاتے ہیں

    اک نظر اور سیکڑوں منظر

    ہم نظاروں میں ٹوٹ جاتے ہیں

    متن میں ٹوٹتے ہیں کچھ افکار

    کچھ حوالوں میں ٹوٹ جاتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : عشق (Pg. 30)
    • Author :معید رشیدی
    • مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2024)
    • اشاعت : 2nd

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

    بولیے