بہت ہے اب مری آنکھوں کا آسماں اس کو

عشرت ظفر

بہت ہے اب مری آنکھوں کا آسماں اس کو

عشرت ظفر

MORE BYعشرت ظفر

    بہت ہے اب مری آنکھوں کا آسماں اس کو

    گیا وہ دور کہ تھی فکر آشیاں اس کو

    کیا ہے سلطنت دل پہ حکمراں اس کو

    نوازشوں کا سلیقہ مگر کہاں اس کو

    شگاف زخم جو میرا نہ کھل گیا ہوتا

    تو کیسے ملتی یہ شمشیر کہکشاں اس کو

    جدھر بھی جاتا ہے وہ شعلۂ بہار سرشت

    دعائیں دیتا ہے انبوہ کشتگاں اس کو

    خود اس کی اپنی چمک نے سراغ اس کا دیا

    چھپایا میں نے بہت زیر آب جاں اس کو

    سمندر اپنا سا منہ لے کے رہ گئے عشرتؔ

    کیا تراوش شبنم نے بے کراں اس کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY