بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

فراق گورکھپوری

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

فراق گورکھپوری

MORE BY فراق گورکھپوری

    بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

    تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

    مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں

    نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

    جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی

    اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں

    نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا

    تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں

    طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں

    ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

    خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا

    اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

    حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہے

    وہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں

    ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی

    مری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں

    تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت

    کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں

    اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیں

    خدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں

    جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا

    عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

    تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میں

    ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں

    ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگندھ کھاتی ہے

    تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں

    رفیق زندگی تھی اب انیس وقت آخر ہے

    ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں

    زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہے

    اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں

    فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر

    کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY