بہت پیپر پہ چھپنے ہیں تو ٹھپہ کاٹ لیتے ہیں
بہت پیپر پہ چھپنے ہیں تو ٹھپہ کاٹ لیتے ہیں
پتا جی مر گئے ہیں تو انگوٹھا کاٹ لیتے ہیں
مکمل ہو نہیں پایا وہ حصہ کاٹ لیتے ہیں
کہانی سے محبت والا قصہ کاٹ لیتے ہیں
ہمارے ہاتھ کے پوروں پہ کوئی گھاؤ کیا دیتا
ہمیں ہیں وے جو ناخونوں کو گہرا کاٹ لیتے ہیں
محبت کے مہینے کو اکیلے جب نکالا ہے
تمہاری زندگی سے یہ مہینہ کاٹ لیتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.