بہت اکتا گیا جب شاعری سے
بہت اکتا گیا جب شاعری سے
لپٹ کر رو پڑا میں زندگی سے
ابھی کچھ دور ہے شمشان لیکن
بدن سے راکھ جھڑتی ہے ابھی سے
اسے بھی ضبط کہنا ٹھیک ہوگا
بہت چیخا ہوں میں پر خامشی سے
بس اس کے بعد ہی میٹھی ندی ہے
کہا آوارگی نے تشنگی سے
لگا ہے سوچنے تھوڑا تو منصف
مرے حق میں تمہاری پیروی سے
میسر ہو گئیں شکلیں ہزاروں
ہوا یہ فائدہ بے چہرگی سے
سنو وہ دور بھی آئے گا کانہاؔ
تکے گا حسن جب بے چارگی سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.