بیٹھے ہیں تیری بزم میں اک اجنبی سے ہم
بیٹھے ہیں تیری بزم میں اک اجنبی سے ہم
اے دوست باز آئے تری دوستی سے ہم
رنج و ملال یاس و الم کرب و اضطراب
کیا کیا نہ لے کے آئے ہیں تیری گلی سے ہم
یہ اور بات ہے کہ محبت ہے ہم سے دور
رکھتے نہیں ہیں دل میں کدورت کسی سے ہم
بل پیچ پے بہ پے تو شکن موڑ موڑ پر
گزرے ہیں موت ہی کی طرح زندگی سے ہم
سننے کو سن تو لیتے ہیں ہم ہر کسی کی بات
کہتے نہیں ہیں بات کسی کی کسی سے ہم
انداز اور بھی ہیں ملاقات کے مگر
ملتے ہیں آدمی کی طرح آدمی سے ہم
بسملؔ ہماری سمت بھی اک جام تو بڑھے
بیٹھے ہیں تیری بزم میں کس بیکسی سے ہم
- کتاب : SAAZ-O-NAVA (Pg. 82)
- مطبع : Raghu Nath suhai ummid
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.