معنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

previous

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے


یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے

خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے


وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے

بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے


اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے

اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں


یہ اجالا تو کسی دیدۂ نمناک سے ہے

ہاتھ تو کاٹ دیے کوزہ گروں کے ہم نے


معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے


یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے

خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے


وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے

بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے


اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے

اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں


یہ اجالا تو کسی دیدۂ نمناک سے ہے

ہاتھ تو کاٹ دیے کوزہ گروں کے ہم نے


معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے

فرانسس پرچٹ کی شرح

Close Source content commmentary source
next

اس غزل کے بارے میں رائے دیجیے

comments powered by Disqus
x